گوندل جٹ

آج سے تقریباً آٹھ سو سال پیشتر حضرت بابا فریدالدین شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ ، اجمیر شریف کے فیوض و برکات لئے ہوئے قصبے اَجودھن (موجودہ پاک پتن) میں جلوہ گر ہوئے اور پھر آپ کی جلائی ہوئی شمعِٰ ہدایت کی روشنیاں گردوجوار اور پھر ہندوستان بھر میں دور دور تک پھیلتی چلی گئیں - آپ ہی کے فیوض و برکات سے ساہیوال ، وہاڑی ، جھنگ ، سرگودھا اور گوجرانوالہ کے لوگ مسلمان ہوئے - ان میں گوندل قبیلے کا مشرف بہ اسلام ہونے کا واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے - کوروؤں اور پانڈوؤں سے منسوب شہر اٰجودھن یعنی پاکپتن رشدوہدایت کا مرکز مانا جاتا تھا - اسی شہر کے نواح میں اجمیر سے ترکِ سکونت کر کے آنے والے ایک ہندو جٹ قبیلے کے لوگوں نے قیام کر رکھا تھا - یہ گوندلوں کا قبیلہ تھا – (گوندل قبیلہ جٹ قبیلے کا ایک ذیلی قبیلہ ہے جو جٹوں کے ایک نامور سپوت “گوندل” کے نام سے منسوب ہے) - یہ آج سے تقریباً ساڑھے سات سو سال پہلے کی بات ہے جب اِس قبیلے کا سردار “گھنو “ تھا جو گوندل کی ۹ویں پشت میں تھا - جہاں اس قوم کے نوجواں جری ، نڈر اور جابر قسم کے تھے وہاں ان کے بزرگ انتہائی زیرک اور سنجیدہ مزاج تھے - کھیتی باڑی اس قبیلے کا پیشہ اور مختلف قسم کے مویشی پالنا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا - بابا فرید شکر گنج رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلفاء اور مریدین گاہ بگاہ تبلیغِ دین کے لئے اس پٹراؤ میں جایا کرتے اور بابا فرید شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ کے حکم کے مطابق اس قبیلے کے لوگوں کی ضیافتیں بھی کرتے رہتے - مزید برآں تالیفِ قلوب کے لئے ان کے مال مویشیوں کے لئے چراگاہیں بھی مہیا کرتے - گوندل قبیلے کا سردار گھنو ، بابا فرید شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ کی ان رواداریوں کی وجہ سے بہت متاْثر ہوا - اور وہ باباجی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس اظہارِ تشکر کے لئے چلا گیا - یوں قبیلے کے لوگ اور بابا جی رحمۃ اللہ علیہ کے مبلغین آپس میں گھلنے ملنے لگ گئے اور آخر کار وہی ہوا جو ہونا تھا - ” نگاہ کی تیغ بازی سپاہ کی تیغ بازی پر غالب ” کے مصداق پر درویشوں کی نگاہِ مست نے اپنا کام کر دکھایا - سردار گھنو اگلی بار اپنے دیگر عمائدین کو بھی حضرت بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ کے دربار میں لے آیا - یہ سب لوگ حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر خلفاء کے درمیان موجود تھے - زمین پر دسترخوان بچھا تھا ، سادہ سادہ جنگلی پھل ، ستو ، باجرے کی روغنی روٹیاں ، ساگ ، گڑ اور لسی وغیرہ دسترخوان کی زینت تھیں - یہ ایک پرُ وقار تقریب تھی - باباجی فرید رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء نے انتہائی مصلحت اور دانشمندی کے انداز میں مدعوین کو دعوتِ اسلام دی - قبیلے کے سردار گھنو نے جواب دیا کہ وہ سب اسلام کی اُن سب تعلیمات سے جو اَب تک اُن تک پہنچی ہیں بہت متاْثر ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے قابلِ قدر رویے اور بلند کردار کو دیکھ کر اپنے اور اپنے قبیلے کے لئے قبولِ اسلام کو پسند کریں گے لیکن وہ صرف حضرت بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت ہونگے -

گوندل قبیلے کے لوگ بلند ہمتی اور قوت کے مالک تھے لیکن حالیہ ہجرت کے بعد اپنا کوئی مستقل ٹھکانہ نہ ہونے کی وجہ سے پریشان حال کسی نئے اور مستقل ٹھکانے کی تلاش میں تھے - اس لئے سردار گھنو فوری طور پر قبولِ اسلام کا فیصلہ نہ کر سکا اور کچھ دنوں کے بعد یہ قبیلہ کسی مناسب ٹھکانے کی تلاش میں وسطی پنجاب کی طرف چل نکلا حتیٰ کہ گنجی بار ، ساندل بار ، کرانہ بار کے وسیع میدانوں کو عبور کرتا ہوا چک عالم تحصیل پھالیہ ضلع گجرات کے مضافات میں آ ٹھہرا - کچھ دن پڑاؤ جمانے میں لگ گئے اور اِسی دوران انہیں پتہ چلا کہ حضرت بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ موضع میلہ (ضلع سرگودھا) کے مضافاتی جنگلات میں چِلہ کشی فرما رہے ہیں- سردار گھنو ، بابا جی رحمۃ اللہ علیہ کے اخلاقِ حسنہ اور اُن کی رواداریوں کو بھلا نہیں پایا تھا بلکہ اُن کے اور اُن کی مسلمان جماعت کے حسنِ کردار سے کچھ ایسا متاْثر ہوا تھا کہ فی الحقیقت اُسی وقت سے اُس کے دل میں ایمان کی حرارت پیدا ہو چکی تھی - اس لئے یہ پتہ چلتے ہی کہ بابا جی رحمۃ اللہ علیہ یہاں سے بہت کم دوری پہ موجود ہیں تو اُس نے فوراً اپنے قبیلے کے تمام سرکردہ حضرات کو جمع کر کے اُن کے سامنے اپنی اِس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ بذاتِ خود اسلام قبول کرنے کا پکا ارادہ کر چکا ہے اور اس کی یہ خواہش بھی ہے کہ قبیلے کے تمام افراد ہمیشہ کی طرح آج بھی اُس کے ساتھ مل کر چلیں - سردار گھنو کی آواز پہ سب اہلِ قبیلہ نے یک آواز ہو کر لبیک کہا اور اس طرح سردار گھنو نے قبیلے کا وفد تشکیل دے کر بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں روانہ کیا کہ حضرت خود قبیلہ کے پڑاؤ (موضع چک عالم) میں تشریف لا کر قبیلہ کے تمام مردوں ، عورتوں ، نوجوانوں اور بچوں سے اپنے دستِ مبارک پر قبولِ اسلام کی بیعت لیں - چنانچہ بابا جی سرکار رحمۃ اللہ علیہ خود تشریف لائے اور ایک ہی وقت میں پورا قبیلہ حلقہ بگوشِ اسلام ہو گیا - وہ ظہر کا وقت تھا اور باباجی سرکار نے خود ہی بآوازِ بلند ظہر کی اذان دی - اہلِ قبیلہ نے پہلی نماز حضرت بابا فرید شکر گنج رحمۃ اللہ علیہ کی امامت میں ادا کی - بابا جی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سب کے حق میں دعائے خیر کی - یقیناً یہ آپ کی دعائے خاص کا اثر تھا کہ آپ کے اِن مقتدیوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نسل ہا نسل تک امامت کے عظیم ترین رتبے سے سرفراز فرمایا - آپ نے اُس دعائے خیر میں بطورِ خاص اہلِ قبیلہ کو بہترین ٹھکانہ کے مل جانے کی خوشخبری بھی سنائی تھی اور بہت جلد اس نومسلم قبیلے کو رہنے کے لئے مستقل ٹھکانے اور عزت و خوشحالی جیسی نعمتیں نصیب ہوئیں -

گوندل قبیلہ کے لوگ چونکہ مہمان داری ، وضع داری ، ملنساری اور اعلیٰ عادات و اطوار کے لحاظ سے منفرد حیثیت رکھتے تھے اس لئے یہ لوگ بہت جلد مقامی لوگوں یعنی رانجھوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے - رانجھا خاندان کے لوگ پھالیہ سے لے کر سرگودھا کی سرحد تک ایک وسیع علاقے کے واحد مالک تھے - رانجھے بھی اپنی شان و شوکت میں گوندلوں سے کسی طرح بھی کم تر نہیں تھے اس لئے ان لوگوں کی دوستی خوب پھلنے پھولنے لگی تھی – اس دوستی کی وجہ سے ہی دریائے جہلم کے کناروں پر گوندلوں کے مال مویشی آزادی کے ساتھ چرنے لگی تھیں حالانکہ بھیرہ کے نزدیک ہاتھی ونڈ ضلع سرگودھا میں گوجروں کا غلبہ تھا - رانجھوں اور گوندلوں کے اتحاد اور اتفاق کے نتیجے میں گوجر قبیلہ وہاں ترکِ سکونت کر کے منڈی بہاؤالدین کے گردونواح میں جاکر آباد ہو گیا اور واسوُ سوہاوہ ان کے درمیان حدِ فاصل بن گیا - اس دوران گوندلوں نے گوجروں کے بیشمار علاقے پر قبضہ کر لیا اور یہ علاقہ گوندل بار کہلانے لگا -اِس قبیلہ کے کچھ بزرگان آج سے تین ساڑھے تین سو سال قبل ہجرت کر کے جہلم کے مضافات میں آباد ہوئے اور ان کی آئندہ نسلیں یہیں پہ پروان چڑھیں — ‏‏